نمازوں کے بعد کن مسنون اذکار، سورتوں اور دعاؤں کا اہتمام کیا جائے؟

نمازوں کے بعد کن سورتوں، اذکار اور دعاؤں کا اہتمام کیا جانا چاہئے؟ اور ان کی کیا خاصیات اور تاثیرات ہیں؟


ایک مسلمان شخص کی پشت کا منظر جو مسجد میں جائے نماز پر بیٹھا دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہے۔ اس کی داہنی طرف رحل پر کھلی ہوئی قرآن مجید اور تسبیح رکھی ہے۔ پس منظر میں مسجد کا خوبصورت فن تعمیر اور روشن کھڑکیاں نظر آ رہی ہیں۔
مسجد کے پرسکون ماحول میں خشوع و خضوع کے ساتھ دعا


مسنون اذکار کی اہمیت اور حیثیت

     نماز کے بعد کے اذکار اور دعائیں درحقیقت بندے کے اپنے رب کے ساتھ اس تعلق کی تجدید اور تسلسل کا ذریعہ ہیں جو اس نے حالتِ نماز میں قائم کیا ہوتا ہے۔ فرض نمازوں کے فوراً بعد مسنون اذکار کا اہتمام ایک ایسا مستحب اور مبارک عمل ہے جو نماز کی روحانی خامیوں کی تکمیل کرتا ہے اور قلبِ مومن کو انوار و تجلیات کا مسکن بناتا ہے۔ وہ اذکار محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہیں، بلکہ ہر ذکر اور ہر سورت کے اندر ایک خاص روحانی تاثیر، برکت اور مقناطیسیت ہے، جو انسان کے باطن کو جلا بخشتی ہے اور اسے شیطانی وساوس سے محفوظ رکھتی ہے۔ ان پر مداومت اختیار کرنا سلف صالحین کا وہ طرۂ امتیاز رہا ہے جو باطنی صفائی اور روحانی ترقی میں بہت مؤثر اور معین و مددگار ہے۔

فرائض کے متصل بعد کے مسنون اذکار اور آیت الکرسی کی تاثیر

     فرض نماز کے سلام پھیرنے کے فوراً بعد تین مرتبہ استغفار اور اس کے بعد "اللہم انت السلام ومنک السلام تبارکت ذا الجلال والاکرام" پڑھنا مسنون ہے۔ [صحیح مسلم، حدیث نمبر: ٥٩١]

     اس کی بنیادی حکمت اور تاثیر یہ ہے کہ بندہ استغفار کے ذریعے اپنی عظیم ترین عبادت یعنی نماز میں ہونے والی دانستہ یا نادانستہ کوتاہیوں پر فوراً رب کی بارگاہ میں معافی کا خواستگار ہوتا ہے، جس سے عبادت کا غرور یا تکبر پیدا نہیں ہوتا بلکہ عبدیت اور بندگی کا حقیقی رنگ ابھرتا ہے۔

     استغفار کے ذریعے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرنے کے متصل بعد اللہ رب العزت کی صفتِ ''سلام'' کا واسطہ دینے کی ایک بڑی اور بنیادی حکمت یہ ہے کہ انسان اپنی ہر عبادت کو ذاتِ باری تعالیٰ کی شان کے مقابلے میں ناقص تصور کرتا ہے اور بارگاہِ الٰہی میں یہ عرض کرتا ہے کہ اے پروردگار، میری ذات بھی خامیوں کا شکار ہے اور میری عبادت بھی، البتہ تو ہی وہ ذات ہے جو ہر نقص اور عیب سے پاک ہے (انت السلام) اور ہر سلامتی، کمال اور بہتری تیری ہی طرف سے عطا ہوتی ہے (ومنک السلام)۔ گویا بندہ یہ التجا کر رہا ہوتا ہے کہ میری یہ ٹوٹی پھوٹی اور وساوس سے بھری نماز تیرے شایانِ شان تو نہیں ہے، مگر تو اپنی صفتِ سلامتی کے صدقے اس ناقص عبادت کو سلامتی اور کمال بخش دے اور اسے شرفِ قبولیت عطا فرما دے۔ یہ کلمات دراصل عبادت کے بعد پیدا ہونے والے کسی بھی قسم کے عُجب (خود پسندی) کو جڑ سے کاٹ دیتے ہیں اور بندے کو اللہ کی بے نیاز ذات کے سامنے مزید جھکا دیتے ہیں۔

     اِس مسنون دعا میں ایک اور بڑی حکمت یہ بھی پنہاں ہے کہ نمازی اب مصلے سے اٹھ کر دوبارہ دنیاوی امور اور زندگی کی کشمکش میں داخل ہونے لگا ہے، اس لیے وہ بارگاہِ الٰہی سے یہ پروانۂ سلامتی لے کر اٹھتا ہے کہ اس کی آئندہ کی زندگی، اس کا دین، اس کا ایمان اور اس کے اعمال شیطانی فتنوں اور دنیاوی آفات سے سلامت رہیں۔

     اس کے فوراً بعد "تبارکت یا ذا الجلال والاکرام" کے ذریعے اللہ کی عظمت اور اس کے انعام و اکرام کا اقرار دراصل خوف اور رجاء (ڈر اور امید) کا وہ حسین امتزاج ہے جو شریعتِ اسلامیہ کا مقصودِ اصلی ہے۔ ''جلال'' کا تقاضا ہے کہ انسان خدا کی بے نیازی سے ڈرتا رہے اور اپنی کسی نیکی پر نازاں نہ ہو، جبکہ ''اکرام'' کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے کریم رب کی رحمت اور اس کے فضل سے ہرگز مایوس نہ ہو۔ پس یہ دعا محض چند الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ نماز کے بعد قلبِ مومن پر طاری ہونے والی عبدیت کی اس کامل ترین کیفیت کا نام ہے جو انسان کو حقیقی معنوں میں رب سے جوڑ دیتی ہے۔

     نمازوں کے بعد آیت الکرسی کا پڑھنا بھی ایک ایسا عظیم عمل ہے جس کے بارے میں احادیثِ مبارکہ میں صراحت ہے کہ فرض نمازوں کے بعد اسے پڑھنے والے اور جنت کے درمیان موت کے سوا کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ [سننِ کبریٰ نسائی، حدیث نمبر: ٩٨٤٨، معجمِ کبیر طبرانی، حدیث نمبر: ٧٥٣٢] اس کی روحانی خاصیت یہ ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی جلالت، اور اس کی قدرتِ کاملہ کا ایسا جامع اور پرجلال بیان ہے جو قاری کے دل میں عظمتِ الٰہی بٹھا دیتا ہے اور اس کے اثر سے انسان دن بھر یا رات بھر کے لیے ہر قسم کے شیاطین، حاسدین اور نظرِ بد سے مکمل حصار میں آجاتا ہے۔

     جن نمازوں کے بعد سننِ مؤکدہ ہیں (جیسے ظہر، مغرب اور عشاء) ان میں فرض کے فوراً بعد مصلے پر قبلہ رخ زیادہ دیر تک نہیں بیٹھے رہنا چاہیے، بلکہ سلام کے فوراً بعد تین بار استغفار اور "اللہم انت السلام..." پڑھنا اور پھر فوراً سنتوں کے لیے کھڑا ہو جانا چاہیے، اِس طرح اس مختصر اور جامع مسنون ذکر پر عمل بھی ہو جاتا ہے اور فرض و سنت کے درمیان کا مطلوبہ فاصلہ بھی مسنون طریقے پر ادا ہو جاتا ہے۔

تسبیحاتِ فاطمی اور معوذتین کے روحانی ثمرات

     نمازوں کے بعد تسبیحاتِ فاطمی کا ورد بھی انتہائی مجرب اور کثیر الفوائد ہے۔ اس میں تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمد للہ، اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھنے کا معمول سکھایا گیا ہے، [صحیح مسلم، حدیث نمبر: ٥٩٦] یا پھر تینتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھ کر آخر میں کلمۂ توحید سے سو کا عدد پورا کرلیا جائے۔ [صحیح مسلم، حدیث نمبر: ٥٩٧] اس مسنون ذکر کی خاصیت یہ ہے کہ یہ جسمانی اور اعصابی تھکاوٹ کو دور کرتا ہے، اعضاء میں روحانی طاقت پیدا کرتا ہے اور قلب کو شکرِ الٰہی کے جذبات سے معمور کردیتا ہے۔

     فجر اور عصر کی نمازوں میں تو یہ تسبیحات فرض کے فوراً بعد آیت الکرسی کے ساتھ متصلاً پڑھ لینی چاہئیں۔ لیکن جن نمازوں کے بعد سننِ مؤکدہ ہیں، جیسے ظہر، مغرب اور عشاء، ان میں فرض کے فوراً بعد مختصر استغفار اور "اللہم انت السلام..." پڑھ کر سنتوں کے لیے کھڑا ہو جانا چاہیے، اور یہ تفصیلی تسبیحات اور دعائیں وغیرہ سنتوں کی ادائیگی کے بعد پڑھنی چاہئیں۔ احادیث میں جو "دبر کل صلاۃ" (ہر نماز کے بعد) کا لفظ آیا ہے، اس سے مراد پوری نماز کا اختتام ہے، یعنی سنن و نوافل سمیت۔ چنانچہ سنتوں کے بعد ان تسبیحات کو پڑھنے سے بھی حدیث پر کامل عمل ہو جاتا ہے اور فرض و سنت کے درمیان زیادہ دیر بیٹھنے کی ناپسندیدگی سے بھی بچا جاسکتا ہے۔

     اسی طرح ہر نماز کے بعد سورۃ الاخلاص اور معوذتین یعنی سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کا ایک ایک مرتبہ، اور فجر و مغرب کے بعد تین تین مرتبہ پڑھنا مسنون عمل ہے۔ [سننِ ابی داؤد، حدیث نمبر: ١٥٢٣ و ٥٠٨٢] ان سورتوں کی ایک بہت بڑی تاثیر یہ ہے کہ یہ انسانی وجود کے گرد ایک ایسا روحانی اور نورانی قلعہ تعمیر کردیتی ہیں جسے کوئی جادو، ٹونہ، حسد یا شیطانی اثر نہیں توڑسکتا۔ یہ سورتیں انسان کو ہر ظاہری اور باطنی شر سے پناہ میں رکھتی ہیں اور شیطانی حملوں کو ناکام بنانے میں ڈھال کا کام کرتی ہیں۔

     عام نمازوں کے بعد تو ان سورتوں کا ایک ایک مرتبہ پڑھنا سنت ہے، جبکہ فجر اور مغرب کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ دن اور رات کے بدلنے کے اوقات ہیں، اس لیے یہاں تین تین بار پڑھا جائے گا تاکہ مکررات کی برکت سے حفاظت کا نظام مزید مضبوط ہوجائے۔ فجر اور مغرب کے بعد کے طویل اذکار اور وظائف کے تحت یہ تکرار مستحسن اور مسنون ہے۔

مخصوص اوقات کی سورتیں اور ان کی برکات

     پانچوں وقت کی نمازوں کے علاوہ فجر اور عشاء کی نمازوں کے بعد بعض مخصوص سورتوں کی تلاوت کے فضائل احادیث میں کثرت سے وارد ہوئے ہیں جن کا اہتمام اکابرینِ امت کے ہاں ہمیشہ سے ایک باقاعدہ معمول کی حیثیت رکھتا ہے۔

     فجر کی نماز کے بعد یا دن کے آغاز میں سورۃ یٰسین کی تلاوت کی خاصیت یہ ہے کہ اس کی برکت سے دن بھر کی تمام جائز حاجات پوری ہوتی ہیں اور انسان کے کاموں میں غیر معمولی برکت اور آسانی پیدا ہوتی ہے۔ [مسندِ دارمی، حدیث نمبر: ٣٤٦٢] اسی طرح مغرب یا عشاء کی نماز کے بعد سورۃ الواقعہ کی تلاوت کا معمول انسان کو کبھی فاقے اور تنگدستی کا شکار نہیں ہونے دیتا۔ یہ سورت رزق کے دروازے کھولنے اور معاشی تفکرات سے نجات دلانے میں مجرب تاثیر رکھتی ہے۔ [شعب الإيمان بیہقی، حدیث نمبر: ٢٤٩٨] رات کے وقت بالخصوص عشاء کے بعد سورۃ الملک کی تلاوت عذابِ قبر سے نجات کا پروانہ ہے، جو اپنے قاری کے لیے اللہ کے حضور سفارش کرتی ہے یہاں تک کہ اس کی مغفرت کردی جائے۔ [سننِ ابی داؤد، حدیث نمبر: ١٤٠٠] ان سورتوں پر مداومت دراصل دنیاوی اور اخروی دونوں زندگیوں کے تحفظ اور فراخی کی روشن ضمانت ہے۔

جامع دعاؤں کا اہتمام اور آدابِ مناجات

     ان تمام مسنون اذکار کی تکمیل کے بعد ہاتھ اٹھاکر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگنا ایک مستحسن اور مسنون عمل ہے۔ [جامع ترمذی، حدیث نمبر: ٣٤٩٩] دعا کے لیے بہترین انتخاب جوامع الکلم ہیں، یعنی وہ جامع قرآنی و نبوی دعائیں جن میں مختصر الفاظ کے اندر دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں اور کامیابیاں سمیٹ لی گئی ہوں، جیسے "ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الآخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار" کا کثرت سے ورد کرنا۔ اِس قسم کی جامع دعاؤں کی تاثیر یہ ہے کہ یہ بندے کو محدود سوچ سے نکال کر پوری امت کے لیے اور اپنی ذات کے لیے ہمہ گیر خیر کے طلب گار ہونے کا شعور بخشتی ہیں۔ فرض نماز کے متصل بعد چونکہ اللہ کی رحمت پوری طرح متوجہ ہوتی ہے اور یہ دعاؤں کی قبولیت کا خاص وقت ہوتا ہے، اس لیے گڑگڑا کر، کامل عاجزی و انکساری کے ساتھ اپنے گناہوں کی معافی، علمِ نافع، عملِ صالح اور حسنِ خاتمہ کی دعائیں مانگنی چاہئیں۔ یہ عملِ مناجات ان تمام اذکار کا ثمرہ اور مغز ہے جو انسان کی بے بسی کو رب کی کبریائی کے سامنے پیش کرکے قبولیت کے ابدی دروازے کھول دیتا ہے۔

     فرض نمازوں کے بعد ہاتھ اٹھاکر دعا مانگنے کا عمل نہ صرف جائز بلکہ ایک پختہ مستحب اور سنتِ صالحہ ہے۔ جن نمازوں کے بعد سننِ مؤکدہ نہیں ہیں (جیسے فجر اور عصر)، ان میں فرض نماز کے بعد متصلاً تمام تفصیلی مسنون اذکار و تسبیحات (آیت الکرسی، تسبیحاتِ فاطمی وغیرہ) پڑھے جائیں اور پھر ہاتھ اٹھاکر طویل و جامع دعا مانگی جائے؛ اور جن نمازوں کے بعد سننِ مؤکدہ ہیں (جیسے ظہر، مغرب اور عشاء)، ان میں فرض کے متصل بعد صرف استغفار اور مختصر دعا (اللہم انت السلام...) پڑھ لینی چاہیے، پھر سنن و نوافل ادا کیے جائیں، اور ان سے فارغ ہونے کے بعد تفصیلی اذکار و تسبیحات پڑھ کر ہاتھ اٹھاکر دعا مانگی جائے۔

     سنن و نوافل دراصل فرض نماز کے لواحقین اور متممات (کمی بیشی کو پورا کرنے والے) ہیں، لہٰذا جب بندہ تمام سنن سے فارغ ہوکر مصلے پر بیٹھتا ہے تو گویا اس کی پوری نماز اب اپنے کمال کو پہنچتی ہے، اور یہی وہ دبرِ صلاۃ کا حقیقی وقت ہوتا ہے جب بندہ اپنے ہاتھوں کو اللہ کی رحمت کے سامنے پھیلا دیتا ہے۔ یہ تعامل احادیثِ صحیحہ کے عین مطابق ہے اور امت کا صدیوں سے اس پر قائم رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ عمل انوارِ نبوت سے فیض یافتہ اور روحِ بندگی کا عکاس ہے۔ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے